تاؤنی راجپوتوں کی وجہ تسمیہ

📜 کنور کسوریہ مڈاڈ آف انڈیا کے مطابق
📲 WhatsApp کنور کسوریہ اصل گوت: تاؤنی دراصل بھاٹی راجپوت ہیں۔ "تاؤنی" کوئی الگ گوت نہیں بلکہ ایک بے اونگ (لقب یا عرف) ہے۔ نام کی وجہ تسمیہ (تاؤنی): جیسلمیر سے بھاٹی راجپوت ہجرت کر کے پنجاب (موجودہ پٹیالہ، چندی گڑھ کے اطراف) آئے۔ ایک فرضی جنگی مقابلے میں یہ لوگ صبح سے شام تک لڑتے رہے اور تھکے نہیں۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ان کو تو "تاؤن آ گیا" (بہت زیادہ پسینہ آیا)۔ اس پس منظر سے ان بھاٹیوں کو "تاؤنی" کہا جانے لگا۔ جانسلہ قصبہ: اُس وقت پٹیالہ یا چندی گڑھ موجود نہیں تھے مگر جانسلہ قصبہ آباد تھا۔ اس قصبے کا نام تاؤنیوں کے حوالے سے پڑا۔ تاؤنیوں کی آبادکاریاں: جیسلمیر → پنجاب ہجرت → جانسلہ → پھر ببیال، بوہ، لالڑو، راجپورہ اور دیگر علاقوں میں پھیلاؤ۔ ببیال کو آج بھی سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ بوہ بھی ببیال ہی سے نکلا۔ سماجی و تاریخی وضاحت: بھاٹی راجپوت بنیادی شاخ ہے۔ "تاؤنی" ایک تاریخی واقعے کے تحت ملا ہوا لقب / بے اونگ ہے۔ بعد میں یہی لقب گوت کی طرح رائج ہو گیا۔ یعنی تاؤنی = بھاٹی راجپوت (لقب کے ساتھ)۔ اصل شناخت بھاٹی ہے، مگر عوامی سطح پر "تاؤنی" مشہور ہوا۔
📜 تاؤنی راجپوتوں کا نسلی تسلسل (رانا اسد اقبال کے کتابچہ کے مطابق)
📲 WhatsApp رانا اسد اقبال شری کرشن جی مہاراج بھٹی، تاؤنی، منج اور وٹو راجپوتوں کے جدِ امجد۔ ان کے دادا کا نام "اطلس" تھا، جس کا ذکر "مہا بھارت" میں ملتا ہے۔ راجہ سالباہن اول شری کرشن جی مہاراج کی 26ویں پشت میں پیدا ہوئے۔ مقام: سیالکوٹ۔ ان سے بعد کے راجپوت سلسلے زیادہ نمایاں ہوئے۔ راجہ جیسل کے بیٹے راجہ سالباہن دوئم کے پوتے۔ راجہ رائے تان سے "تاؤنی راجپوت" کا سلسلہ منسوب ہے۔ تاؤنی دراصل "تان" سے اخذ راجہ گوپال راجہ تان کی آٹھویں پشت میں۔ نہایت کثیر الاولاد شخصیت تھے۔ ان کے 15 بیٹے تھے، جن کے نام پر 15 گاؤں آباد ہوئے۔
🎧 کنور کسوریہ کی آڈیو وضاحت
📖 رانا اسد اقبال – تاؤنی راجپوت کتابچہ

Comments